مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب صیہونی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی حلقوں کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ یمنی افواج کے مقابلے میں سعودی عرب کمزور دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ زمینی پیش رفت کے بعد قابض اسرائیلی ادارے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور یمنی چیلنجز سے نمٹنے کی اس کی استعداد کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے صنعاء حکومت کی افواج کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سے انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون حاصل کیا۔
اس مقصد کے لیے امریکی دہشتگرد فوجی کمانڈ (سینٹکام) کی ثالثی میں دونوں فریقوں کے درمیان رابطے ہوئے، جن کے نتیجے میں اسرائیل نے یمنی افواج کی نقل و حرکت اور ان کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات ریاض کو فراہم کیں۔
چینل 12 نے شاہی خاندان کے قریب سمجھے جانے والے ایک سعودی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کا سامنا ہے۔
عہدیدار کے مطابق ریاض بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ برداشت کر رہا ہے، جبکہ جنوبی سرحد پر صنعاء حکومت کی افواج نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے سعودی عرب پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
سعودی عہدیدار نے کہا کہ حوثیوں کی پیش قدمی اور امریکہ کی جانب سے فیصلہ کن اقدام نہ کیے جانے کے باعث انہیں اپنی طاقت اور سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا موقع ملا ہے۔
رپورٹ میں ریاض اور واشنگٹن کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سعودی عہدیدار کے مطابق یمنی افواج کے خلاف براہِ راست کارروائی سے امریکی گریز پر سعودی قیادت میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس تعاون شروع ہو چکا ہے، تاہم امریکہ نے اب تک صنعاء حکومت کی افواج کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
سعودی عہدیدار نے پاکستان اور ترکیہ کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاض کو ان ممالک کی جانب سے عملی تعاون کے بجائے زیادہ تر سفارتی حمایت ہی حاصل ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن کی موجودہ صورتحال، خصوصاً باب المندب کی تزویراتی اہمیت، ریاض اور تل ابیب دونوں کے لیے ایک اہم سکیورٹی تشویش بن چکی ہے، جبکہ سعودی عرب پہلے سے کہیں زیادہ بیرونی حمایت پر انحصار کرنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ